575

کُہنہ مشق ادیبہ ، افسانہ نگار فارحہ ارشد صاحبہ کا جاوید انور کے افسانہ ” شیر ” پر تبصرہ۔

مشاہدہ ، منظر نگاری ، تخیل اور زبان و بیاں کا ایسا خوبصورت امتزاج جاوید انور صاحب کے ہاں تقریباً ان کے ہر افسانے میں ملتا ہے ۔ افسانے کا موضوع یا مزاج ان میں سے کسی ایک چیز کو کم یا زیادہ تو کر سکتا ہے مگر غائب نہیں کر سکتا ۔ اور یہی جاوید صاحب کا اسلوب ہے ۔ کبھی یہ توازن افسانے کی فضا دکھانے کی خاطر کسی ایک چیز ( جیسے زیر نظر افسانے میں ‘ مشاہدہ’ کی شدت ) پہ تخلیق کار فوکس کرے مگر بیانیے میں کہیں اس سے دلچسپی کا عنصر اور کہانی میں جھول نہ آئے تو یہی خوبی اور زیادہ افسانے کے حسن کا باعث بنتی ہے۔ افسانہ ‘ شیر ‘ میں بھی مشاہدے کا کمال ہنر برتا گیا ہے ۔
خاص طور پہ کہانی ہی ایک ایسے موضوع کا احاطہ کرتی ہے جو ہمیں شدت سے اپنے اردگرد نظر آتا ہے کہ مذہب ہو یا معاشرتی میلانات و رحجانات ۔۔۔ ہم صرف وہیں اور اتنا ہی ‘ بدلتے’ ہیں جتنا ہمارے مفادات کو ڈسٹرب نہ کرے ۔ اسی خیال کو نسل در نسل منتقل کرتے دکھایا گیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ پنچ لائن نے اچھا پنچ مارا ہے معاشرے کے اس روئیے پہ ۔
بہت خوب جاوید انور صاحب ۔۔۔۔ ڈھیروں داد

اس تحریر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں