204

محمد جاوید انور کی تصانیف پر جناب محمد الیاس صاحب کا تبصرہ

محمد جاوید انور کی تصانیف پر جناب محمد الیاس صاحب کا تبصرہ

میرے پسندیدہ ترین اردو رائیٹرز میں سے ایک محمد الیاس ہیں۔ فقیر منش ۔جو دنیا کی پرواکئے بغیر ایک گوشہ میں بیٹھا جوہر پارے تخلیق کرتا چلا جاتا ہے۔
نہ ستائش کی تمنا نہ صلے کی پروا
محمد الیاس صاحب کے میری حقیر تخلیقات پر تاثرات رات موصول ہوئے۔
ناقابل بیان خوشی ہوئی ۔
(محمد جاوید انور)
‏‎السلام علیکم۔ ایک ساتھ تین کتابیں تکمیل کے آخری مراحل میں تھیں۔ ناول اور ناولٹ کا مجموعہ کمپوزنگ کے لیے جا چکا تو اس رات آپ کی عنایت کردہ ایک کتاب کے چند طویل افسانے اور کچھ افسانچے پڑھے۔
‏‎یقین جانیئے، دلی خوشی محسوس ہوئی کہ ایک جینوئین ادیب سے ملاقات ہو گئی۔ آپ کی کہانیوں میں ہمارے اپنے وسیب کا رنگ اور مٹی کی خوشبو رچی ہوئی ہے۔ جس کی جڑیں ہزاروں سال پرانی تہذیب میں ہیں۔ کسی بھی فطری ادیب کی تخلیقات میں اٌس کے عہد کی حقیقی تصویر اور تاریخ نظر آتی ہے، جب کہ ہسٹری میں نام تاریخیں اور مقامات تو صحیح درج ہو سکتے ہیں لیکن واقعات کی صحت پر اعتبار نہیں کیا جاسکتا کہ وہ وقت کی مقتدر قوتوں کی منشا کے مطابق لکھے جاتے ہیں۔
‏‎ آپ جیسے ادیب آئندہ نسلوں کے لیے گزرے کل کی اصل اور واضح تصور محفوظ کر رہے ہیں۔ ورنہ ہماری اولاد کو کیا پتا کہ شام کو ماچھن کی بھٹی سے دانے بھنوا کر گرم گرم چابنے سے جو لذتِ کام و دہن اور بدن کو انسٹنٹ انرجی ملتی ہے، وہ ملٹی نیشنل کے برگر اور پیزا سے بھی نصیب نہیں ہوتی۔
‏‎آپ کی کہانیاں پڑھ کر اس گوشہ نشین فقیر کے دل میں خواہش بیدار ہوئی کہ کبھی آمنے سامنے بیٹھ کر ان پر ڈھیروں باتیں کریں۔ چوہدری حمید رازی بھی اسی لیے اچھے لگتے ہیں کہ سماجی ثقافتی رٌوٹس ساجھی ہونے کی وجہ سے انہیں دل کے قریب محسوس کرتا ہوں۔ افسوس کہ میری گوشہ نشینی اور تنہائی نے مجھے بدنام کیا ورنہ قدرت نے میرا خمیر خالص محبت سے گوندھ رکھا ہے۔
‏‎ایک اور نمایاں قدر میں نے اپنی ذات اور آپ میں مشترک پائی کہ کم و بیش تیس سال کے غیاب سے اس فقیر نے دوبارہ کیوں لکھنا شروع کیا، اگر حسنِ اتفاق سے کبھی ملاقات ہوئی تو اس پر بات کریں گے۔
‏‎سلامت رہیں اور سدا شاد آباد۔ تحریر طویل ہو رہی ہے، آخری بات ۔۔۔
‏‎میرے نزدیک کہانی وہی کامیاب قرار دی جاسکتی ہے جو قاری کو مطالعہ کرنے پر خوشی کا احساس دلائے، حیرت میں مبتلا کرے یا کہانی کے کرداروں کے دکھوں اور غموں میں شریک کر لے۔ یہ وصف آپ کی بیشتر تخلیقات میں پایا گیا ہے۔ رب راکھا۔
(محمد الیاس)

اس تحریر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں