288

‎افسانہ “نارسائی “پر جناب محمد ھاشم خان صاحب کا خوبصورت تبصرہ

‎’افسانہ “نارسائی “پر جناب محمد ھاشم خان صاحب کا خوبصورت تبصرہ
‎سب کہاں کچھ لالہ وگل میں نمایاں ہوگئیں‘۔
‎غالبؔ نے ۱۸۵۲ میں یہ غزل منشی نبی بخش کو بھیجی اور خط میں لکھا ’بھائی! خدا کے واسطے اس غزل کی داد دینا،اگر ریختہ یہ ہے تو میرؔ و میرزاؔ کیا کہتے تھے اور وہ ریختہ تھا تو پھر یہ کیا ہے؟ ‘غالبؔ کو اپنی اس غزل پر بہت ناز تھا اور دراصل یہ ایک قسم کا چیلنج بھی کہ اگر یہ غزل نہیں ہے تو پھر غزل کیا ہے،آپ نے غالبؔ کی یہ غزل پڑھی ہوگی اور اس امر سے واقف ہوں گے کہ انہوں نے کن کن پنہاں پہلوؤں کو نمایاں کیا ہے۔ افسانے کی قرأت ختم ہوتے ہی یہ بات یوں ذہن میں آئی کہ اگریہ افسانہ نہیں ہے تو پھر کیا ہے؟ یہ نظم نہیں ، یہ نثر نہیں، یہ کیفیت کا وہ بادۂ ناب ہے جسے ’ کچھ شعریت کی حد تک صوتی و لفظی آہنگ ‘ کے کوزے میں کوزہ گر نے یوں پیش کردیا ہے کہ اُسے دیکھنے والی ہر آنکھ سرِمژگاں وفات زدہ خوابوں کے پر افشاں قطرے محسوس کرتی ہے، انہیں قطروں میں حاصلی اور لاحاصلی کا جمال، جلال اور ملال زیست کرتے ہیں اور جب وہی قطرے ٹپکتے، ڈھلتے اور لڑھکتے ہوئے لب و رخسار تک پہنچتے ہیں تو زندگی نئے عذاب، خواب اور ساخت کے ساتھ زیست کے بھنور میں واپس لا پٹختی ہے اور وہ کوزہ اچانک بیک وقت جام در دست اور جناز ہ بردوش نظرآنے لگتا ہے۔ دل آزار،زیست بے زار، جہنم زار۔یہاں کوزہ گری کمال کی اس سطح کو چھو لیتی ہے جہاں کوزہ گر اپنی صناعی پر خود فسوں زدہ ہوتا ہے، اور غالبؔ جیسے بے نیاز لوگ بھی کہہ بیٹھتے ہیں اگر یہ غزل نہیں ہے تو کیا ہے۔سو یہ کوزہ گری ، یہ شعریت ، یہ فسوں اور آشفتہ بیانی ہی اصل وہ فسانہ ہے جو’مابعدجدید عہد‘ کا قاری پڑھنا اورجینا چاہتا ہے ۔
‎افسانہ ابتدا سے انتہا تک سحرخیز، ملال انگیز، جمال آمیز ہے۔ یادوں کےمحیطِ بے کراں میں کیفیت سے لبریز محاکات کی کشتیاں تیر رہی ہیں، دشت ملال ہے، تنہائی ہے،تیر نیم کش کی خلش ہے، ہر سو سراب ہے، تشنہ کاموں کو پانی نظر آرہا ہے،سوختہ جانوں کو راکھ میں بجھی ہوئی چنگاری، لیکن سچ یہ ہے کہ کوئی سراب پانی نہیں، کوئی راکھ شرر نہیں، اصل کے زندان میں کوئی روزن نہیں، کوئی کھڑکی کوئی کنارہ نہیں، کوئی چارہ ، کوئی مفر کوئی علاج نہیں،لاحاصلی کی کرچیاں ہیں، شجر افسوس کی ٹہنیاں ہیں اور ٹہنیاں بہت خاردار ہیں۔ ایک پر تمکنت خامشی ہے ،ایک پر شکوہ زندگی تہہ خاک ہے اور صدیوں کا سفر طے کرکےاس کا معشوق اس سے ملنے آیاہے، کیا ہی کرب انگیز ہے یہ لمحہ کہ یہ ملاقات اور یہ اتصال بھی بہت وقتی ہے اصل زندگی کی طرح، اس اذیت کو جینا نہ تو ہر ایک کا مقدر ہے اور نہ ہی ہر ایک کے بس کی بات، یہ وہی خاک بسر جی سکتا ہے جس نے عشق کیا ہے ۔ آپ تصور کیجئے کہ اس نے قبر کو دیکھا ہوگا،سلام کیا ہوگا اور اسے چھو ا ہوگا اور جب چھوا ہوگا تو سلام کا جواب اپنے ریشوں اور خلیوں میں اترتا محسوس کیا ہوگا، اور یہ بھی سوچئے کہ اس نے جب سلام سنا ہوگا تواس کے دل پر کیا گذری ہوگی، جواب کیسے دیا ہوگا، مکالمے کی راہ کیسے ہموار ہوئی ہوگی، بہت کچھ ان کہی ہے جو صرف محسوس کی جاسکتی ہے اور اسے محسوس کرکے ہی جیا جاسکتا ہے، لفظوں میں بیان کرکے ضائع نہیں کیا جاسکتا ۔افسانہ اندر ہے ، افسانہ باہرہے، افسانہ قبر میں ہے اور افسانہ ٹیکسی میں منتظر باجی میں ہے۔ افسانہ متن میں ہے ، افسانہ فضا میں ہے، منظر پس منظر مکالمے میں ہے ۔تخلیق کار کے تخلیقی عمل میں قاری جب تک شریک نہیں ہوگا وہ افسانے سے لذت کشید نہیں کرسکتا، افسانہ نگار نے ایک منظر کھینچ دیا ہے، ایک مکالمہ قائم کردیا ہے ، اس منظر کی گہرائی میں قدم بہ قدم اترنا قاری کااپنا کا م ہے جو جتنا اترسکے، جو جتنا اکسپلور کرسکے، قبر ، اس میں دفن زندگی، دعا اور یادوں کے آباد خرابے کا سفر قاری کو بھی طے کرنا ہے، قاری کو سوچنا ہے کہ دعا کیا مانگی ہوگی۔ وہ آباد خرابہ کیسا رہا ہوگا جس کی یہ شہزادی کبھی مکین تھی اور پھر وہ دنیا کیسی رہی ہوگی جو سلام کا جواب دیتے وقت ایک لمحے کے لئے وجود میں آئی تھی۔اب کس کی کتنی غلطی تھی یہ بھی آپ کو سوچنا ہے اور پھر یہ بھی سوچنا ہے کہ باجی تھک گئی ہیں ٹیکسی میں بیٹھے بیٹھے ۔ جاوید انور کے قلم میں ایک الگ چاشنی ہے، نثر میں ایک الگ ہی ردھم ہے، کچھ ایسی مقناطیسی ردھم جو گاؤں اور شہرکی امتزاجی فضا میں جوان ہونے والی دھانی لڑکی میں ہوتی ہے۔بہت خوبصورت اور بہت ہی سحرخیز افسانہ جو مجھے یاد رہے گا ۔ عرفان صدیقی کا ایک شعر یا د آیا
‎یہ غزل لکھ کے حریفوں پہ اُڑا دی میں نے
‎جم رہی تھی مرے آئینۂ اشعار پہ خاک
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس تحریر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں