Hawa nay ki hay sargoshi 531

ہوا نے کی ہے سرگوشی:‌شاعر محمد جاوید انور، گلوکار اُستاد حامد علی خان صاحب


ہوا نے کی ہے سرگوشی کہ کوئی آنے والا ہے
ہوا نے کی ہے سرگوشی کہ کوئی آنے والا ہے
کوئی مہکار سانسوں سے ، کوئی مہکار سانسوں سے چمن مہکانے والا ہے
ہوا نے کی ہے سرگوشی کہ کوئی آنے والا ہے
…….
کسی کی مہربانی سے سُدھر جائے گا یہ جیون
کسی کی مہربانی سے سُدھر جائے گا یہ جیون
کوئی خوش بخت قسمت سے ، کوئی خوش بخت قسمت سے ہمیں اپنانے والا ہے
ہوا نے کی ہے سرگوشی کہ کوئی آنے والا ہے
…….
ہمیں اُمید ہے اپنے بھی دن اب خوب گزریں‌گے
ہمیں اُمید ہے اپنے بھی دن اب خوب گزریں گے
ہمارے دل کو چین آئے گا، ہمارے دل کو چین آئے گا
غم اب جانے والاہے
ہوا نے کی ہے سرگوشی کہ کوئی آنے والا ہے
…….
نئی رُت سے یہاں‌کچھ تازگی آئے گی لگتا ہے
نئی رُت سے یہاں‌کچھ تازگی آئے گی لگتا ہے
اندھیرے جائیں ، اندھیرےجائیں اب سورج جہاں‌چمکانے والاہے
ہوا نے کی ہے سرگوشی کہ کوئی آنے والا ہے
کوئی مہکار سانسوں‌سے ، کوئی مہکار سانسوں سے چمن مہکانے والا ہے.
ہوا نے کی ہے سرگوشی کہ کوئی آنے والا ہے

اس تحریر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں