455

میں نہ مانتا

میں نہ مانتا !
اور
کبھی نہ مانتا
کہ یہ محترم جاوید انور بوبک صاحب کی پہلی تخلیق ہے
اگر ……
میرا بچپن ان کے ساتھ نہ گزرا ہوتا
مجھے وہ 1969 کی ایک سہ پہر آج بھی یاد ہے .جب ضلع نارووال کے ایک دور افتادہ گاؤں بوبک کے پرانے اور انتہائی خستہ حال مڈل اسکول سے چھٹی کے وقت کندھے پر کپڑے کا لمبا بیگ لٹکائے اور بار بار ناک کو صاف کرتے ہوئے راستے میں آنے والے بیریوں کے جھنڈ کے پاس پونہچے تو سب لڑکوں نے مٹی کے ڈھیلے اٹھا کر کافی اونچائی پر لٹکتے بیروں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا مگر ایک لڑکا دور کھڑا انتہائی سنجیدگی سے سب کو دیکھ رہا ہے اور پھر کہنے لگا
نہ یار بیروں کو مٹی سے نہ مارو ………دونوں کو تکلیف ہوتی ہے
ہم کچھ نہ سمجھ سکے
مگر محترم جاوید بھائی کا کہا ہوا یہ جملہ آج بھی کانوں سے ٹکرا رہا ہے
اور آج جب 48 سال بعد انکی ایک انتہائی خوبصورت کتاب ڈاک سے موصول ہوئی
جس کا نام …….برگد …ہے
تو کتاب پڑھ کر .ان کی اپنی مٹی سے محبّت یاد آئ اور مجھے بڑے بھائی ایک ..برگد .. کی شفیق اور ٹھنڈی
چھاؤں کی مانند اپنی چھاؤں تلے اگنے والے چھوٹے پودوں کو بھی وہی شفقت اور حفاظت مہیا کرتے نظر آے…………………………………..انتہائی حساس دل کے مالک جاوید بھائی اپنی مٹی سے سچی محبّت کرتے ہیں .اس بات کا احساس اس کتاب کا مطالعہ کرنے والے پر عیاں ہو جاتا ہے اور اپنی مٹی کی سوندھی سوندھی خوشبو قلب و جاں کو معطر کر دیتی ہے …………….
اس کتاب کی کہانیوں کے کردار ہمارے گاؤں کے کلچر سے جڑے ہوئے ہیں اور جس نے بھی گاؤں میں وقت گزارا ہے اس کی آنکھوں کے سامنے یہ کردار فلم کی طرح چلتے پھرتے نظر آتے ہیں …………….
میرے سامنے میرے ددھیال اور ننھیال کے گاؤں کے وسط میں بنی بڑی حویلیاں اور انکے اوپری حصے پر بنے .وہ انتہائی خوبصورت ڈیزائنوں سے سجے کھلے ہوا دار ………چوبارے جن میں ہمارا بچپن .لڑکپن گزرا .ان کہانیوں میں صاف دکھائی دے رہے ہیں …………..
یہ سنی سنائی کہانیوں پر مبنی کتاب نہیں .بلکہ …….
اس کے تمام کردار اپنے خون سے کشید کئیے گئے ہیں …جن میں سچائی .خلوص .اور سادگی ہے ……
میں اپنے دل کی اتھاہ گہرائیوں سے محترم جاوید بھائی کو مبارک باد پیش کرتا ہوں کہ انھوں نے ان ……سچے اور سچے جذبوں سے سرشار گاؤں کے چلتے پھرتے ان کرداروں کو صفحہ قرطاس پر انتہائی خوبصورتی اور خوش اسلوبی سے اتار دیا ہے اور ………………………………
مجھے ماننا پڑا ہے کہ آج سے 48 سال پہلے اپنی مٹی سے پیارکرنے والے اسی خوبصورت انسان کی ہی یہ تخلیق ہو سکتی ہے ………………………….
دعاگو ہوں کہ وہ ذات واحد آپ کے ..علم…حلم.اور قلم میں برکت عطا فرماے
آمین یا رب العالمین

اس تحریر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں