656

میرے اجمال سے کرتی ہے تراوش تفصیل

میرے اجمال سے کرتی ہے تراوش تفصیل

جاوید انور کے افسانوں کا تنقیدی جائزہ

محمد ہاشم خان (ممبئی، انڈیا)

مولاناعرفیؔ نے ایک جگہ اپنی شعرگوئی کی کیفیت بیان کرتے ہوئے کہا ہے۔

از برون لب نہ دانم چوں شود لیک آگہم

کز تہہ دل تالبم افسانہ درخوں مے رود

بسکہ خون آلودہ خیزد  دود از شمع ولم!

در ہوائے محفلم پروانہ در خوں مے رود

یعنی جو حرف مطلب میرے دل کی عمیق گہرائیوں سے اٹھ کر لبوں سے باہر نکلتا ہے، میں کچھ نہیں کہہ سکتا کہ اس کے اثرو فعالیت کی کیفیت کیا ہوتی ہے،کیونکہ اس کا معیار سننے والوں کے دل و دماغ ہیں،وہی بتاسکتے ہیں کہ ان پر کیا گزری۔ البتہ یہ جانتا ہوں وہ حرف مطلب دل سے اٹھتا ہے تولب تک آتے آتے خون میں لت پت آتا ہے۔ میرے دل کی شمع سے جو دھواں اٹھتا ہےسراسرخون آلودہ ہوتا ہےنتیجہ یہ ہے کہ میری مجلس کی فضا میں پروانہ رقص کرتا ہوا آتا ہےتو خون میں تیرتا آتا ہے۔(غالب کی شاعری از مولانا غلام رسول مہر، نقوش ،غالب نمبر ص ۶۲)

جاوید انور نےاحساس کے’ کونوں کھدروں‘ کو منور کرنے والی روشنی کا جو دیپ قرطاسِ خیال کے طاق پر فروزاں کیا ہےاس کے اثرو فعالیت کی کیفیت سے شاید وہ اتنا آگاہ نہ ہوں کیوں کہ اس کا معیار پڑھنے والوں کے دل و دماغ ہیں اور وہی بتاسکتے ہیں کہ ان پر کیا گذری ہےلیکن ان کے خامہ ٔ خونچکاں کے دشت وحشت کا سفرکرنے والے ان چھوٹے موٹے ’سوکھے برگدوں ‘  میں سے ایک میں بھی ہوں جس کے ذوق قرأت کی سوکھی ڈار شجرسایہ دار کے لمس سے کچھ ’ہریائی ‘ہے۔ میرے دل و دماغ کا معیار کیا ہےمیں اس سے آگاہ نہیں ہوں البتہ یہ ضرور ہے کہ برگد کے کئی افسانوں نے’ہُم ہُم‘ کی یہی کیفیت پیدا کی ہے۔حروف اگر فسانہ گرکےلب اظہار تک آتے آتے خون میں لت پت آئے ہیں تو حرف شناس بھی خون آلودہ حرفوں کے حلقۂ تموجِ معانی میں لہولہان داخل ہوا ہے ۔ برگد،آخری گجرا، بھٹی،دشت وحشت، شیر اور نارسائی اسی قبیل کے افسانے ہیں جہاںحروف سیاہ کی زیرآب  لہریں آپ کو جکڑلیتی ہیں اوراس وقت تک حلقہ دام خیال میں رکھتی ہیں جب تک کہ کوئی خارجی طاقت دل و دماغ کے ریشوں میں موجزن فکری شرائین کے فشار کوتوڑکرمتنی و معنوی حصار کی کشش سے ہم کنار و بےکنارنہیں کردیتی ہے۔ برگد کے نرم دبیزسائے میں دہشت کےنمرودی رقص، دشت وحشت میں ماہ وش کی سامری آنکھوںمیں جہاں گزیدگی کے توحش، آخری گجرامیں غربت زدہ ’شہزادے‘ کی ماضی و حال کو لمحہ جاودانی میں تحلیل کرنے کی تلافی مافات، بھٹی  میں جبرواستبدادکی آگ کے خوف وخدشات ،شیر میں شیروں کی روباہی اور نارسائی میں روح وصل کے نارسا ہونے کی ازلی خلش کوداستان گو نے یوں ہمارے سامنے پیش کردیا ہے کہ انفرادی و اجتماعی دونوں طور پر ہم ہی کرداراورہم ہی کہانی نظرآتے ہیں۔

ہندوستانی فلم ساز سنجے لیلا بھنسالی نے ’دیوداس‘ کے تعلق سے ایک سوال کی وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ دنیا میں ہر شخص کے اندر ایک دیوداس بیٹھا ہواہے۔جاوید انور کا افسانہ’نارسائی‘ کچھ اور نہیں بلکہ ہم تمام لوگوں کے اندرموجود اداس و ملول دیوداس اور داسی کو خراج پیش کرنا اور تہہ خاک نفس کومحبت کی شررخیزاذیت کی حرارت پہنچانا ہےاور اس کے لئے انہوں نے جو تکنیک ، پلاٹ اور زبان استعمال کی ہے وہ شعری موسیقیت،کیفیت اور انجذاب وتحلیل کی امکانی قوت سے لبریزہے۔اس افسانے کی قرأت نے غالبؔ کے ایک خط اور غزل کی یاد تازہ کروادی ہے۔غالبؔ نے  ۱۸۵۲  میں یہ غزل ’سب کہاں کچھ لالہ وگل میں نمایاں ہوگئیں‘ منشی نبی بخش کو بھیجی اور خط میں لکھا ’بھائی! خدا کے واسطے اس غزل کی داد دینا،اگر ریختہ یہ ہے تو میرؔ و میرزاؔ کیا کہتے تھے اور وہ ریختہ تھا تو پھر یہ کیا ہے؟ ‘غالبؔ کو اپنی اس غزل پر بہت ناز تھا اور دراصل  یہ ایک قسم کا چیلنج بھی کہ اگر یہ غزل نہیں ہے تو پھر غزل کیا ہے۔’نارسائی‘‘ کی قرأت ختم ہوتے ہی فوری طور پر غالب کا یہی خط ذہن میں گونج پڑاکہ اگریہ افسانہ نہیں ہے تو پھر کیا ہے؟  یہ نظم نہیں ، یہ نثر نہیں، یہ کیفیت کا  وہ بادۂ ناب ہے جسے ’ کچھ شعریت کی حد تک صوتی و لفظی آہنگ ‘ کے کوزے میں کوزہ گر نے یوں  پیش کردیا ہے کہ اُسے دیکھنے والی ہر آنکھ سرِمژگاں  وفات زدہ  خوابوں کے پر افشاں قطرے محسوس کرتی ہے، انہیں قطروں میں حاصلی اور لاحاصلی کا جمال، جلال اور ملال  زیست کرتی ہےاور جب وہی قطرے ٹپکتے، ڈھلتے اور لڑھکتے ہوئے لب و رخسار تک پہنچتے ہیں  تو زندگی نئے عذاب، خواب اور ساخت کے ساتھ زیست کے بھنور میں  واپس لا پٹختی ہے اور وہ کوزہ اچانک بیک وقت جام در دست  اور جناز ہ بردوش نظرآنے لگتا ہے۔ دل آزار،زیست بے زار، جہنم زار۔یہاں کوزہ گری کمال کی اس سطح کو چھو لیتی ہے جہاں کوزہ گر اپنی صناعی پر خود فسوں زدہ ہوتا ہے، اور غالبؔ جیسے بے نیاز لوگ بھی کہہ بیٹھتے ہیں  اگر یہ غزل نہیں ہے تو کیا ہے۔سو یہ کوزہ گری ، یہ شعریت ، یہ فسوں اور آشفتہ بیانی  ہی اصل وہ فسانہ ہے جو’مابعدجدید عہد‘  کا قاری  پڑھنا اورجینا چاہتا ہے ۔

’نارسائی ‘ابتدا سے انتہا تک سحرخیز، ملال انگیز، جمال آمیز ہے۔ یادوں کےمحیطِ بے کراں میں کیفیت سے لبریز محاکات کی کشتیاں تیر رہی ہیں،  دشت ملال ہے، تنہائی ہے،تیر نیم کش کی خلش ہے، ہر سو سراب ہے، تشنہ کاموں کو پانی نظر آرہا ہے،سوختہ جانوں کو راکھ میں بجھی ہوئی چنگاری، لیکن سچ یہ ہے کہ کوئی سراب  پانی نہیں، کوئی راکھ  شرر نہیں، اصل کے زندان میں کوئی روزن نہیں، لاحاصلی کی کرچیاں ہیں، شجر افسوس کی ٹہنیاں ہیں اور ٹہنیاں بہت خاردار ہیں۔ ایک پر تمکنت خامشی  ہے ،ایک پر شکوہ  زندگی تہہ خاک ہے اور صدیوں کا سفر طے کرکےاس کا معشوق اس سے ملنے آیاہے۔آپ تصور کیجئے کہ اس نے قبر کو دیکھا ہوگا،سلام کیا ہوگا  اور اسے چھو ا ہوگا اور جب چھوا ہوگا تو سلام کا جواب  اپنے ریشوں اور خلیوں میں اترتاہوا محسوس کیا ہوگا، اور یہ بھی سوچئے کہ اس نے جب سلام سنا ہوگا تواس کے دل پر کیا گذری ہوگی، جواب کیسے دیا ہوگا، مکالمے کی راہ کیسے ہموار ہوئی ہوگی۔جب آپ تخلیق کار کی طرح دوران قرأت تخلیق کے عمل سے گزریں گے تو آپ کو محسوس ہوگا کہ افسانہ  اندر ہے ، افسانہ باہرہے، افسانہ قبر میں ہے اور افسانہ ٹیکسی میں منتظر باجی میں ہے۔ ’نارسائی کا ایہ اقتباس ملاحظہ کریں’’کوئی ذی روح نہیں تھا اس وسیع و عریض مقام وحشت پر، بس ہم دو تھے اور لامتناہی پھیلاؤ کا مظہر گہرا سکوت۔۔۔۔

۔۔وہ دیکھو کون آیا ہے تمہیں لینے۔۔۔جھاڑ جھنکار ہٹاتے، بچتے بچاتے لمبی خودروگھاس کو روندتے وہ مجھ تک آپہنچا۔۔۔

بابوجی! باجی کہہ رہی ہیں میں تھک گئی ہوں ٹیکسی میں بیٹھے بیٹھے۔ جہاز کا وقت نکلا جارہا ہے۔ فاتحہ پڑھ لی ہے تو اب آجائیں۔۔ص ۶۴‘‘۔

اس ابتدا اور انتہا کے درمیان جو کچھ ہے وہ ہماری اورآپ کی ناگفتنی کی جاں سوز کیفیت ہے، ہماری اور آپ کی نارسائیوں کی اذیت ہے۔تخلیق کار کے تخلیقی عمل میں قاری جب تک شریک نہیں ہوگا وہ افسانے سے لذت کشید نہیں کرسکتا، افسانہ نگار نے ایک منظر کھینچ دیا ہے، ایک مکالمہ قائم کردیا ہے ، اس منظر کی گہرائی میں قدم بہ قدم  اترنا قاری کااپنا کا م ہے جو جتنا اترسکے، جو جتنا اکسپلور کرسکے، قبر ، اس میں دفن زندگی، دعا اور یادوں کے آباد خرابے کا سفر قاری کو بھی طے کرنا ہے،  قاری کو سوچنا ہے کہ دعا کیا مانگی ہوگی۔ وہ آباد خرابہ کیسا رہا ہوگا جس کی یہ شہزادی کبھی مکین تھی اور پھر وہ دنیا کیسی رہی ہوگی جو سلام کا جواب دیتے وقت ایک لمحے کے لئے وجود میں آئی تھی۔اب کس کی کتنی غلطی تھی  یہ بھی آپ کو سوچنا ہے  اور پھر یہ بھی سوچنا ہے کہ  ’باجی تھک گئی ہیں ٹیکسی میں بیٹھے بیٹھے ‘۔

جاوید انور کی نثر میں ایک الگ ہی ردھم ، آہنگ اور لےہے، کچھ ایسی مقناطیسی ردھم جو گاؤں اور شہرکی  امتزاجی فضا  میں جوان ہونے والی دھانی لڑکی کی شکرفشانی میں ہوتی ہے اور یہی ردھم ان کے تمام افسانوں میں موضوعاتی تنوع اور تقاضوں کے مطابق موجود ہے۔ نہ ایک خشت آگے اور نہ ہی ایک بالشت پیچھے۔نثرمیں شعریت ،بیانیہ میں رمزیت ،تخیل میں رفعت اور پیشکش میں تحیر و ندرت ان کےاندر ایک معیاری شعبدہ گر کی پوشیدگی کی اطلاع دیتی ہیں۔ کوئی بھی تخلیق مکمل نہیں ہوتی، وہ اپنے اندر ایک ایسا جوف رکھتی ہے جس میں ضعف،جھول اور سقم لاشعور کے راستے درآتا ہے اورچونکہ ناقد تخلیق کار کی طرح کسی ’لاشعورکےمرزغان و آتشدان  میں قلم کی روشنائی کو آنچ نہیں دکھاتا ہے اس لئے وہ آسانی سے اس ضعف کو ڈھونڈ نکالتا ہے۔جاوید انور کے افسانے میں بھی رطب ویابس اور حشو و زوائد موجود ہیں لیکن اس انگریزی مقولے کے مصداق Devil must be paid his due انہیں خوبصورت نثری سلاست کی کریڈٹ بہرصورت ملنی چاہئے کہ زمانۂ حال کے افسانہ نویسوں میں وہ نثری پختگی نظرنہیں آتی جو انہیں بڑے ،معیاری یا نمائندہ افسانہ نگاربننے کی راہ پر گامزن کرسکے۔جاوید انور نے اگر چہ حرفوں کی شکن کو دیر سے سنوارنا شروع کیا ہے لیکن کسی بھی زاویئے سے ا یسا بالکل محسوس نہیں ہوتا کہ ’برگد‘ ایک سال کی محنت شاقہ کا ثمر ہے۔ان کے افسانوں کے مغتنمات میں نثر ی پختگی کے علاوہ جو وصف بہت نمایاں نظرآئے گی وہ ان کا منفردمشاہداتی تعمق اور بات کہنے کا ڈھنگ ہے۔ ’لاخیرے شیروں ‘ کی بے غیرتی پر مبنی افسانہ ’شیر ‘ کا ایک اقتباس بطور حوالہ پیش ہے’’اپنا باپ اس بوڑھے مردار بیل جیسا لگتاجس کی کھال اتارکرسیاہی مائل گلابی بدبودار جسم جھگیوں سے پرےپھینک دیا گیا تھا۔۔۔۔ یک بارگی اسے ایسا لگا کہ مردار جسم اس کی ماں ہےجسے کتے اور مردارخور گدھ نوچ نوچ کر کھاتے ہیں۔جس کی ہڈیاں بھی بیچ کھائی جائیں گی۔ اسے شدت سے محسوس ہوا کہ اس کا باپ مردارکا وہ باقی ماندہ ، غیرہضم شدہ فضلہ ہے جو بستی کے بنجرکھیت میں پڑا رہ جاتا ہےاور اُبکائیاں لاتا ہے، تا آنکہ وہ مٹی میں مل کرناپید ہوجائے۔  شیر ص ۶۵۔۶۶ ‘‘  ’سیاہی مائل گلابی بدبودار جسم ‘توجہ کا حامل مشاہدہ نہیں ہے؟ یقیناً ہے ۔اس افسانے میں مشاہدے کے علاوہ طنز کانشتربھی خوب ہے اور یہ خواتین کے ’فیمنزم‘ سےمرعوب و مستعارنہیں ہےبلکہ عورتوں کو امپاورڈ (خودمختار)کرنے اور کرانے کے لئے ان کے قلم کی طرف سے ادنیٰ کاوش و خراج ہے۔اور جہاں تک بات کہنے کے ڈھنگ کا معاملہ ہے تو اس کی ایک مثال اوپر نارسائی میں پیش کرچکا ہوں کہ بات تین جملوں میں مکمل ہوجارہی ہے لیکن پھر افسانہ ہے کیا؟لفظوں کا فسوں ،کلک کا جنوں ،  ابہام کی وحشت،متن کی چھت کہاں ہے؟ میں نے  نئے آہنگ وفرہنگ پیش کرنے والی معاصرافسانہ نگارمحترمہ فارحہ ارشد کے ایک خالصتاً پوسٹ ماڈرن افسانے’ننگے ہاتھ‘ کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھا تھا’’کل کہانی یہی ہے کہ ایک لڑکی ہے جو تقدیسی  مکدرات کی بھینٹ چڑھا دی گئی ہے ،وہ  اپنے اس تعفن زدہ  عائلی جبر سے آزاد ہونا چاہتی ہے اور آزاد ہوجاتی ہے۔یہی بات اگر تین  جملوں میں ادا کی جائے تو ’متن ‘ہے،تین سطروں میں بیان کی جائے تو ’کہانی ‘ہے اور تین ہزارالفاظ میں پیش کی جائے تو افسانہ ہے۔۔۔فسوں خیز،کیف آگیں،سحر انگیز۔ ‘‘ جاوید انور افسانوی فنی لوازمات کے ساتھ تین جملوں کو تین ہزار الفاظ میں تبدیل کرنے کے ہنر پرقدرت رکھتے ہیں۔ ایک اور مثال’ دشت وحشت ‘سے ملاحظہ کریں۔

’’میں اس گھسٹتی گاڑی میں کسی نوخیز، سانولی سلونی نمکین لیکن قبل از وقت مرجھائی مسلی سواری کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ میں نے تصور کیا کہ وہ کھڑکی سے لگی چھوٹی سی انفرادی سیٹ پرسمٹی سرد شیشے سے ناک لگائے متجسس اداس نظروں سے شہر سے رینگ کر نکلتی مضافات سے گزرتی ریل گاڑی کی حرکت کی لاتعلق قیدی ہوگی۔۔۔۔۔

اس نے اپنے گہرےگندمی کمزور بازو کی کہنی کھڑکی سے اندر کرلی ہوگی اور بے وقت مرجھایا چہرہ بھی پیچھے ہٹالیا ہوگا۔‘‘  ان محولہ بالا دو جملوں کے درمیان چار صفحات کا بعد ہے اور اس میں مصنف چھوٹی موٹی کئی اور کہانیاں بیان کرگئے ہیں جسے میٹافکشن کی شاندار مثال قراردیاجاسکتا ہے۔

اوپر جن افسانوں کا میں نے ذکر کیاہے ان تمام افسانوں کے اندر فن کی لوازمات حسب تناسب وتوازن موجود ہیں جن کی وجہ سے وہ دیگر افسانوں کے مقابلے میں زیادہ نمایاں ہوکرمنصہ تسوید پرآئے ہیں اور ان میں بھی’ برگد‘کو جاوید انور کا ’جف القلم ‘افسانہ قراردیا جاسکتا ہے کہ وہ افسانہ اجتماعی کرافٹ پر ان کی مضبوط گرفت کی بھرپور نمائندگی کرتا  ۔ یہ کئی ناحیوں سے ایک مکمل اور بڑے کینوس کا افسانہ ہے جس میں زبان و بیان پر قدرت کے علاوہ،مشاہدات کی پہنائی اور میٹافکشن بھی ملاحظہ کرسکتے ہیں۔برگد کا ایک اقتباس ملاحظہ کریں’’وقت کا دریا بہتا رہا،مدتیں گزرگئیں،بوڑھے آسیب زدہ برگد نےبھی کئی موسم دیکھے اور کئی سردوگرم جھیلے، اُلُّوؤں،چِیلوں، گِدھوں اور چمگادڑوں کی نئی نسلیں آباد ہوئیں۔ گاؤں میں کئی بار سن کے پیلے، السی کے نیلے اور سرسوں کے زرد پھول کھلے اورپھر سوکھ گئے‘‘ ۔اب اگر یہ مشاہدہ منشی پریم چند اور احمد ندیم قاسمی کی یاد نہیں دلارہا ہے تو پھر کیا ہے؟

اس افسانے کی اصل روح انتشار کی مرکزیت میں پنہاں ہے۔ہرکردار اپنے آپ میں ایک افسانہ ہے اور پھر سارے کردار اپنی آزاد حیثیت برقراررکھتے ہوئے آخر میں ایک بڑے افسانے میں تبدیل ہوجاتے ہیں۔  افسانے کی زبان،ڈکشن، جگہ بہ جگہ مقامی بولیوں اور محاوروں سے مزین جملے اجتماعی طور پر کھردرا پن کی کیفیت پیدا کرتے ہیں۔۔۔۔غیر مسطح،ناہموار،اوبڑکھابڑ مگر لہردار اور بل کھاتی ہوئی ،روانی اور بہاؤ کو روکتی ہوئی جو کہ ایک حسن بھی ہے او ر ایک قبح بھی۔ اس ضمن میں آپ اسد محمد خان کی کہانیوں کو ملاحظہ کرسکتے ہیں جہاں roughness حسن بیان میں مخصوص اضافہ کررہا ہے،وہ اپنے افسانے میں ان رفلڈ (Un-ruffled)  جیسے کئی نامانوس الفاظ استعمال کرتے ہیں اور کوئی گراں بھی نہیں گذرتا،بیانیہ میں ایک وقتی رخنہ پڑتا ہے،قاری حیرت سے رکتا ہے،سوچتا ہے اور پھر مزید ارتکاز کے ساتھ آگے بڑھتا ہے۔ ’برگد‘ میں بھی یہ ڈکشن ان لوگوں کو لئے ایک حسن ہے جوبیانیہ کی روایتی ساخت سے کچھ ہٹ کر زبان و بیان میں قدیم و جدید کا امتزاج چاہتے ہیں۔ سلمان رشدی نے ایک بار اپنی Chutnified English کے بارے میں کہا تھا کہ جن کو سمجھ میں نہیں آتی ہم ان کو سمجھانے نہیں جائیں گے، فرانسیسی اپنے غیر مروجہ الفاظ یا عام مقامی تعبیرات کو سمجھانے نہیں آتے اس لئے آپ کو بھی اگرہماری مقامی تعبیرات کو سمجھنا ہے تو ہماری زبان سیکھیں۔لہٰذا ’برگد‘ اپنی بُنت اور بیانیہ میں ہرچند کہ کچھ بوجھل ہے لیکن تہہ دار، قابل قرأ ت، سماع اور تحیرخیزہے۔برگد کی تفہیم آسان ہے لیکن  اس کے گرد معنوی تعیین کا حصار قائم کرنا نہ صرف یہ کہ کچھ مشکل ہے بلکہ اس کی امکانی وسعت کو محدود کرنا ہے۔افسانے میں برگد دو علامتی مفاہیم ادا کر رہا ہے ۔ایک تو یہ کہ یہ ثمردار ہے اور دوسرا یہ کہ ثمردارنہیں ہےاور یہی تضاد و مغائرت برگد کو اس کے روایتی افہام و استعارے سے اوپر لے کرجاتی ہےاور یہی افسانے کا معراج بھی ہے۔ کسی افسانے میں مثبت و منفی دو متوازی مفہوم پیداکرنا آسان کام نہیں اور یہ کام مصنف نے برگد میں بہت آسانی سے کردکھایا ہے ۔

جیسا کہ اوپر میں لکھ چکا ہوں کہ جاوید انور کا قلمی سفر کوئی ایک ڈیڑھ سال پراناہےاور اس قلیل مدت میں موضوعات میں ندرت اور تنوع کو برقرار رکھتے ہوئے چودہ افسانوں اور تیرہ افسانچوں پر مبنی کتاب لانا کوئی آسان کام نہیں۔ بلاشبہ یہ کاوش زبردست تخلیقی وفوراور ارتکاز کا تقاضا کرتی ہے اور انہوں نے قارئین کو مایوس بھی نہیں کیا ہے لیکن ایک چیز کی کمی بڑی شدت سے محسوس ہوئی ہے اور وہ ہےمزاحمتی رنگ کا فقدان۔اس ’برگدی‘ قوسِ قزح میں اگر کوئی ایک رنگ مفقود ہے تو وہ مزاحمت کا رنگ ہے۔شورش واختلال سے پر معاشرےمیں مزاحمتی رنگ کا نہ ہونا حیرت انگیزہے خاص طور سے اس صورت میں کہ افسانہ نگار ایک سینئربیوروکریٹ بھی ہیں اور اقتدار کے گلیاروں میں غربت و طاقت اور طبقاتی کشمکش کے جتنے رنگ انہوں نے دیکھے ہوں گے وہ صرف وہی جانتے ہوں گے۔ ’بھٹی‘ اس ضمن میں ایک عمدہ افسانہ ضرور ہے لیکن اس میں بھی مزاحمت کی اس آنچ کی کمی ہے جو افسانے کو ترفع عطاکرنے کے لئے لازمی ہے۔ یہ افسانہ طاقت و جبر کی ساخت پر مبنی ہے اور اس انسانی المیے کی رزمیہ داستان ہے جو ابتدائےآفرینش سے مقتدر اور غیر مقتدر کے درمیان کشاکش سے جاری ہے۔ مصنف نے ’بھٹی ‘ میں موج کے دھارے کو یوں بل دیا ہے کہ زیرآب طغیانی نے مدوجزر کی صورت سب کچھ اتھل پتھل کرکے رکھ دیا ہے۔ سب کچھ اپنی جگہ پر ٹھیک ٹھاک چل رہا ہے پرسکون سمندر کے مانند،بظاہر کوئی طغیانی نہیں ہے پھر اچانک ایک قتل ہوتا ہے اور زندگی کی بھٹی ہمیشہ کے لئے بجھ جاتی ہے۔ گاؤں کی دیہی پرسکون فضا میں پاور اسٹرکچر کو منعکس کرتا قدرے بہتر افسانہ ہے مگر جزئیات بالتفصیل اور جگہ جگہ غیر ضروری منظر نگاری نے اس کے حسن کو ماند کردیا ہے۔ متن عمیق مشاہدے اور قلم پر افسانہ نگار کی گرفت کی غمازی ضرور کرتا ہے لیکن کرداروں کی کوئی خارجی و باطنی کشمکش نہیں، سماجی جدلیات کی کوئی کشاکش نہیں۔ رواں دواں، اکہرا،سپاٹ،مسطح اور ہموار۔۔تہہ داری نہیں۔۔ افسانہ ’لہردار‘ نہیں بن سکا اور نہ ہی فسوں خیز۔  جو چیزآخر میں یاد رہ جاتی ہے وہ سلامت کا قتل ہے اوریہ power tussle یا اسٹرگل کا اظہاریہ نہیں کیوں کہ قتل اس لڑکی کی وجہ سے ہوتا ہے جو گلی کے پار دور سرخ اینٹوں سے بنے مکان میں رہتی تھی اورلڑکی کی وجہ سے ہونے والا قتل پاور اسٹرگل کو ظاہر نہیں کررہا ہے کیونکہ لڑکا اور اس کے والدین پسماندہ لوگ ہیں اورحصول طاقت و دولت کی خواہش کا کبھی کوئی اظہار نہیں ہوا ہے۔ متن ملاحظہ کریں’’ گرمیوں کی سہہ پر محمد علی گھڑے بھرنے کے بعد ہمیشہ تھوڑا سا پانی کھڑونچی کے نیچےاور اردگرد کی سلگتی زمین پر، جان بوجھ کر چھڑکتا، جس سے نمی کو ترسے کچے صحن سے مٹی کی مسحور کن خوشبو خارج ہوجاتی۔۔۔۔محمد علی اور چھیداں کاآگ پانی کا یہ کھیل گاؤں کی رہتل میں یوں رچ بس گیا تھا کہ اس کے بغیر گاؤں کا تصورمحال تھا۔ گویا آگ پانی کا یہ کھیل گاؤں کی زندگی کی علامت تھا۔‘‘ ص ۴۷‘‘۔ محمد علی سوکھی ماٹی کو زندہ کرنے والاکردار ہےاوراپنی چھوٹی سی کٹیا میں بہت مطمئن ہے لہٰذا سلامت کے قتل کو محبت کا مکافات کہہ سکتے ہیں سو یہاں بھی پاور اسٹرکچر یا پاور اسٹرگل ایک فیکٹر کے طور پر ابھر کر نہیں آرہا ہے۔غربت زدہ زندگی کو ختم کرنا چوہدریوں کے لئے کوئی مشکل فعل نہیں کیونکہ وہ ایسا کرتے آئے ہیں اور بات اگر چوہدری کی غیرت پر آجائے تو پھر کسی کمی یا بہشتی کا زندہ رہنا نا ممکنات میں سے ہے۔سلامت کا قتل اس بات پر نہیں ہوتا کہ اس کی سائکل نئی ہے بلکہ اس بات پرہوتا ہے کہ’’ سرخ اینٹوں سے بنے ڈیزائن والے چھدرے پردے کے پیچھے کوئی ہیولی تیزی سے غائب ہوجاتا ہے‘‘ اب یہ گھر کس کا ہے؟ چوہدری کا نہیں ہے؟ وہ لڑکی چوہدری کی بیٹی نہیں ہے؟ ٹریکٹر اور ٹرالی چوہدری کی ہے جس پر لاش لائی گئی ہے اس لئے متن ہمیں چوہدری کی غیرت نفس کی طرف لے جاتا ہے اورغیرت نفس کی بنیاد پر قتل ایک عام بات ہے۔ یہاں جبر جبر نظر نہیں آرہا ہے بلکہ یہ ایک فیشن ہے،ہاں اگر اس کا قتل چھوٹے موٹے کسانوں کے بیٹوں نے حسد اور نفرت میں کیا ہوتا توافسانہ اپنے کینوس میں مزید وسیع ہوجاتا کہ چوہدریوں کے اندر چوہدری پیدا ہوچکے ہیں یعنی کہ فورس ودھن فورس (Force within force) طاقت کے اندرطاقت کا اظہاریہ۔ یہ افسانے کی مجموعی ادبی فضا ہے جو متن کے روزن سے چھن چھن کر نمودار ہورہی ہے۔ مذکورہ بالا اعتراضات و اشکالات کے باوجود (جو کہ غلط بھی ہوسکتے ہیں)افسانہ اچھا ہے۔ گاؤں کے خاموش اور پرسکون تالاب میں اچانک کوئی پتھر پھینک دے تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاوید انور صاحب اس نکتے کو بیان کرنے میں کامیاب رہے ہیں اور یہی کل افسانہ ہے۔۔۔۔۔پرسکون تالاب میں ایک پتھر سے پیدا ہونے والا ’’مد وجزر‘‘۔

جاوید انور نے افسانوں کے علاوہ ۱۳ علامتی اور نیم علامتی افسانچے بھی لکھے ہیں جن میں گجینہ معنی کا طلسم بھی موجود ہے اور ابہام کا حسن بھی۔ دلہن ،روئے سخن، آخری بار، راجہ اور راطوطاصاحب یوں تو کہنے کو افسانچے ہیں لیکن معنوی حجم کے اعتبار سے مکمل افسانے کا لطف دیتے ہیں۔ کہانی کےپیرہن کے دھاگوں کو ادھیڑ کر افسانے کی زنجیر بننے کی قدرت تامہ انہیں ’یارجلاہوں.

اس تحریر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں