302

محمد جاوید انور کے افسانوی مجموعے کی تقریب اور مشاعرہ . روزنامہ نئی بات

محمد جاوید انور کے افسانوی مجموعے کی تقریب اور مشاعرہ

روزنامہ نئی بات: ۲۵اکتوبر ۲۰۱۸

شارق جمال افسر تو ہیں ہی۔ خوبصورت شاعر بھی ہیں۔ وہ ہر ماہ فلیٹیز ہوٹل کے بورڈنگ روم میں چند احباب کو جمع کرتے ہیں اور یوں شاعری کی محفل سجاتے ہیں۔ اس محفل میں شہر کے ممتاز شعراء کو بھی دعوت دی جاتی ہے۔ شارق جمال اور ان کے احباب نے “حلقہ اربابِ فکر ” کے نام سے تنظیم بنا رکھی ہے۔ اس تنظیم کے تحت اس مرتبہ ممتاز شاعر اور افسانہ نگار محمد جاوید انور کے دوسرے افسانوی مجموعے “سرکتے راستے” کی تعارفی تقریب بھی منعقد کی گئی ۔ صدارت نامور محقق ، شاعر اور نقاد ڈاکٹر سعادت سعید نے کی۔ مقررین میں نعیم بیگ، ڈاکٹر اختر شمار، جمیل احمد عدیل ، غلام حسین ساجد، شارق جمال ، قرآۃ العین نے بھی خطاب کیا۔ سبھی مقررین نے جاوید انور کے عمیق مشاہدے اور زبان و اسلوب کو سراہا۔ محمد جاوید انور نے اپنا ایک مختصر افسانہ بھی پیش کیا۔ اس نشست میں کتاب کے پروگرام کے بعد شاعری کا دور بھی چلا جس میں خاص طور پر ہمارے اسلام آباد کے دوست محبوب ظفر نے بھی شرکت کی۔ خالد شریف، شکیل جاذب، رحمان فارس، ارشد شاہین، شازیہ مفتی اور کئی دیگر سخن وروں نے اپنا کلام پیش کیا۔ اس محفل کی خاص بات یہ ہوتی ہے کہ شارق جمال اور قرآۃ العین نظامت کرتے ہوئے شعراء کا بھرپور تعارف کراتے ہیں۔ محفل میں آئی جی ریلوے ڈاکٹر مجیب الرحمٰن کے علاوہ جاوید انور کے احباب نے بھی شرکت کی۔

اس تحریر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کریں