332

شارقہ. از جاوید انور

شارقہ
جاوید انور
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج پھر سونے کے لئے لیٹا تو اُس کی آنکھوں کے سامنے رنگین پھُول ، رنگ برنگے کم یاب پرندے، بھانت بھانت کے جنگلی جانور ، دیہاتی لمبی کچی سڑک کو گھیرتے سفید پھُولوں کے پھُندنے نکالتے سرکنڈوں کی اُفق تک جاتی قطاریں ، دھریک ، نیم ، شیشم کے جھُنڈ، بڑ کے گھیردار درخت اور پیپل کے کھڑکھڑاتے پتے گھُوم گئے۔ یہ منظر اُسے سونے سے پہلے نیم غنُودگی ہی میں نظر آنا شُرُوع ہو جاتے اور گہری نیند کے غاروں میں ساتھ بھٹکا تے ، جانے کب اُس سے بچھڑتے اور خواب ہی میُں پھر آ ملتے ۔ یہاں تک کہ اُس کی آنکھ کھُل جاتی اور وہ رنگین اور کیف آور خواب کی مادی شکلیں تلاش کرنے نکل پڑتا۔
اچانک اُس کی سوچ بھٹکی اور وُہ رنگین سراپا اُس کی بند آنکھوں کے سامنے لہرایا جو ان سب مناظر کا ماخذ تھا۔
کیا ذھن ہو گا جو یہ انتخاب کرتا ہو گا۔ کس کے قلب پر یہ وارداتیں اُترتی ہونگی ۔ کیسا حساس دماغ یہ داستانیں بُنتا ہو گا ۔ کیسی نگارشات ہوا کے دوش پر پارس بنی کس کس محبُوب کی نظروں سے مس ہوتی سُنہری رُوپہلی دھنک بُنتی ہونگی۔
کیا حس جمال ہوگی ، کیا کسب کمال ہوگا۔
یہ سلسلہ کوئی چھ مہینےقبل شُرُوع ہُوا، جب آیک دن فرینڈز ریکویسٹ میں اُسے ایک شکل نظر آئی اور ساتھ ھی ایک دلکش سا نام ۔ شارقہ کمال۔
شارقہ نام اُسے یونیورسٹی ہی کے دنوں سے پسند تھا، جس کی کُچھ وجُوہات تھیں ۔
نیم پوشیدہ ، کالے سیاہ بالوں میں سے جھانکتے سفید گُلابی چہرے کی چاند ٹکیا اور آگ لگاتا گہرا سُرخ لباس ۔
چُن چُن کے وُہ ساری ترکیبیں جو کبھی اُس نے چاہی تھیں کسی نے سمیٹ کر لا حاضر کیں۔
اُس نے پیج کھولا تو بابا فرید کی شاعری کے سلیقے اور ذوق سے بنائے گئے نفیس کارڈ ، میاں مُحّمد کی آفاقی شاعری، غالب ، فیض ، فراز اور مُحسن نقوی کے علاوہ پروین شاکر ، امرتا پریتم کی شاعری کے مُنتخب پارےاور کہیں کہیں انگریزی زُبان کے چیدہ چُنیدہ مفکرین کے اقوال کا تڑکا ۔
اغلاط تھیں، لیکن انکا تو فیس بُک پہ رواج ہیے اور کوئی خاص بُرا نہیں مناتا۔ اکثر نالائقی بھی ٹائپو کے زُمرے میں چھُپ جاتی ہے۔
موسیقی کا انتخاب بھی ملا جُلا تھا۔
تصوف، رُومان، فلسفہ ، ادب عالیہ، روائت، تہزیب و تمدن ، رنگ و نُور کا عجیب ، دلچسپ ، دلپذیر اور ہوش رُبا مُرقع تھا، جو دل کو کھینچ کھینچ لیتا ۔
شکیل اپنے معاشرتی رُتبہ کے طُفیل سو میں سے شائد ایک آدھ فرینڈز ریکویسٹ ہی قبُول کرکے اپنی فہرست میں شامل کرتا ۔ اُس کی فرینڈز لسٹ ہمیشہ پانچ ہزار دوستوں کی آخری حد کو پُہنچ چُکی ہوتی ۔ اشد ضرُورت کی صُورت میں نظرثانی کر کے ، زیادہ تر صنف قوی کے نسبتا کم پسندیدہ لوگوں کو فارغ کر کے ہی کوئی جگہ پیدا کی جاتی ۔
یہ ریکویسٹ اُسے ایسی بھائی کہ جو بھی پہلی آئی- ڈی نظر آئی اُسے فارغ کر کے گُنجائش پیدا کی اور بڑی سُرعت کے ساتھ کلک سے ریکویسٹ کو فرینڈ میں بدلا، مُبادا دُوسری طرف ارادہ بدلنے سے ریکویسٹ غائب ہی نہ ہو جائے۔
اور پھر سلسلہ چل نکلا۔ تُعارف ہُوا۔ اشتیاق کا اظہار ہُوا۔ دبی دبی اُلفت در آئی جو جھجھک جھجھک کر گاڑھی مُحبت میں ڈھلنے لگی۔ تصویریں ، گانے اشعار اور سمائلیز کے دورے زیادہ تر براہ داست سیدھے دلوں تک ابلاغ پاتے۔
فوک تو سیدھا رُوح کی گہرائیوں میں اُتر جاتا۔ بولنے کی ضرُورت شاز ہی پیش آتی کہ جب رُوح لبیک کہتی ہے تو واسطے ثانوی حیثیت پاتے ہیں ۔ گلابوں کے تُحفے صُبح، سُورج کے متنوع استعارے دوپہر اور ڈھلتی شام کے سُرمئی اشارئیے شام ڈھلے رُومان کو بُلندیوں کی انتہائی سطح تک لے جاتے۔
اُس کی نئی سیاہ آٹومیٹک کر ولا جب ڈیفنس کی وسیع اور ہموار سڑکوں پر تیرتی تو بھی وُہ شارقہ کی بھیجی گئی فوک دُھنوں میں غرق ہوتا , حتی کہ دفتر میں بھی جب فُرصت ملتی ، تُحفہ میں بھیجا گیا کوئی انمول بھُولا بسرا گیت ہی اُس کو تازہ دم کر کے نئی آسائنمنٹ کے لئے مُستعد کرتا۔
شارقہ شاذ شاذ ہی لکھتی اور جو لکھتی وُہ بھی شکستہ رومن اُردُو میں ۔ پیغامات انتہائی کم آتے جاتے۔ زیادہ تر شاعری، مُصوری اور موسیقی ہی ذریعہ اظہار ہوتے۔ شارقہ کا لکھا مُختصر ہوتا اور بیچ میں ہجے غائب ، لیکن مفہُوم ادا ہو ہی جاتا ۔
لاکھ کوشش کے باوجُود نہ تو وُہ ٹیلی فون پر بات کرنے پر آمادہ ہوتی نہ مُلاقات پر ۔ یہ رویہ جہاں شکیل کے لئے جھُنجھلاہٹ کا باعث بنتا وہیں تجسس اور رُومانویت کو مہمیز کرتا۔
ایک دن بڑے آصرار پر شارقہ نے بتایا کہ اُس کا فون , جس پر وُہ مُحبت نامے ٹائپ کرنے کی کوشش کرتی ہے، ہجے مس کرتا ہے۔
اُس کی سالگرہ قریب تھی۔ بڑا اچھا موقع تھا۔ شکیل ، جس کے پاس پیسے کی کمی نہیں تھی اور جس کے دل و دماغ چھوڑ رُوح تک پر شارقہ قابض تھی اُسے کسی طور حیران اور خُوش کر دینا چاہتا تھا ۔
آس نے باتو ں ہی باتوں میں شارقہ کے چھوٹے چچا زاد بھائی، جس سے وُہ مانُوس تھی اور اُس کے بقول جو اُس کا ہمراز تھا ، کا پتہ لیا، جو اسی شہر کے ایک پرائیویٹ “چھڑا ہاسٹل” کا تھا اور جدید ترین ماڈل کا آئی فون خرید کر کورئیر سے بھجوا دیا۔
ڈبل کور کے اندر خُوشخط لکھا تھا ،
” شارقہ کے لئے۔ مُحبت سے، سترھویں سالگرہ مُبارک”۔
اور باہر کے کور پر تھا ،
“پرائیویٹ ۔ صرف مس شارقہ ہی کھولیں “-
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کھچی والا کے چک بیالیس کے کچے ٹوبے میں پانی سڑ بُس رھا تھا۔
گہری سبز کائی نے اک تہہ جما کر پُورے ٹوبے کا رنگ سبز کیا ہُوا تھا ، ماسوائے اُن جگہوں کے جہاں بھینسیں بیٹھی جُگالی کر کے جھاگ بنا رہی تھیں ۔ ششماہی نہر بندی کی وجہ سے چالیس دن سے پانی نہیں آیا تھا ۔ جانوروں اور پیاسی ریت کے پی جانے سے باقی ماندہ پانی بس ٹوبے کے نصف تک ہی رہ گیا تھا ۔ پانی کے سُکڑنے سے اس کی سطح پر تیرتی کائی اکٹھی ہو کر بڑی دبیز اور گہری سبز ہو گئی تھی۔ ہلکے سبز پتوں سے لدے شیشم کے اُونچے درخت ٹوبے کے اندر کی طرف جھُکے جیسے پانی میں جھانک رہے تھے ۔ گرے ہُوئے پتوں اور کائی نے ریاست بہاولپُور کی بھُون دینے والی گرم دُھوپ کی آگ سے کڑھ کے جیسے بچے کھُچے پانی کو سبز رنگ کا بدبُودار گاڑھا جوشاندہ بنا دیا تھا ۔
کالی اور بھُوری بھینسیں جھُکے ہُوئے شیشم کے چھدرے سائے کے آسرے پر اُس گرم جھُلستی دوپہر میں سبز گاڑھے گرم پانی میں اُبل رہی تھیں۔ تھوڑے فاصلے پر سُرخ اینٹوں سے بنا ایک دُوسرا ٹوبہ تھا جہاں سے چک بیالیس کے جٹ ، ارائیں اور باقی برادریوں کے لوگ ریت ملا پانی لے جا کر ، اُبال کر ، پھٹکری ڈال کر مٹی کے گھڑوں اور صُراحیوں میں بھر کر ٹھنڈا کر کے پیتے تھے ، معدُودے چند آسُودہ حال گھروں کے جہاں ریفریجریٹر آ چُکے تھے۔ جانوروں والے ٹوبے میں ستر دین دیندار کا خارش زدہ بیمار بھُورا کُتا پرسوں ڈُوب کر مر گیا تھا ، جس کی لاش نکال کر قریبی کھیت کی مینڈھ کی اوٹ میں کپاس کے کٹ چُکے پودوں کے ڈھیر کے پاس پھینک دی گئی تھی ۔ اُس کی سڑتی لاش کی تیز بُو ٹوبے تک آ رہی تھی۔
اچانک چند بھینسیں ہانپتے ہُوئے، زور لگا کر ، گرم پانی سے باہر نکلیں اور قریبی کھیت میں لُوسن کے نرم سبز پتوں اور نیلے پھولُوں کی اشتہا انگیز خُوشبُو کے پیچھے بھاگ پڑیں۔
جھُکے ہُوئی شیشم کے بڑے درخت کے دو ٹہنوں کے بیچ ایک کالا بھچنگ نوجوان مردانہ جسم ، جس کے پسینے سے گیلے اور میل میں بسے غلیظ گرمی دانےکُچھ دُور سے دیکھنے ہی سے بد بُو دے رہے تھے ، صرف جانگیہ پہنے، ٹنگا تھا۔
ایک بالکُل اسی ہیت اور حُلئے کا شاہکار کھجُور کے خُشک پتوں سے بُنی چٹائی پر ایک دُوسرے درخت کے نیچے اُلٹا لیٹ کر ٹانگیں آسمان کی طرف اُٹھائے ، ایک تال کے ساتھ مسلسل ہلا کر چُوتڑوں تک لا کر پھر واپس لے جا رہا تھا۔
بھینسوں کو کھیتوں کی طرف دوڑ لگاتے دیکھ کر شیشم سوار بھُوت نے اپنے زیریں ہمزاد کو ایک کریہہ آواز میں للکارا،
” او سلامتے !
ذرا بھینسوں کو موڑا لگانا میں آئی فون والے بابُو کو ‘ کٹ پیسٹ ‘ کر لُوں ”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شکیل میرا دوست تھا۔ اُس کے کاروبار سمیٹ کر بیرُون مُلک ہجرت کا میں نے بُہت اثر لیا۔
اُسکی رُومان پسند طبیعت یُونیورسٹی کے دنوں ہی سے مُجھے کھلتی تھی۔ میرا رویہ زندگی کے بارے میں جتنا عملی اور خُشک تھا وُہ اُتنا ہی لا اُبالی، کھلنڈرا اور تخیلاتی مزاج کا حامل انتہائی نرم دل اور پیارا انسان تھا ۔ مزاجوں میں اتنا فرق ہونے کے باوجُود ہماری مثالی گہری دوستی اس نظرئیے کی سچائی کی دلیل تھی کہ منفی اور مُثبت ایک دُوسرے کے لئے بے پناہ کشش رکھتے ہیں۔ میں اُس کو جتنا کھینچ کھانچ کر حقیقی زندگی کے ویران و بنجر صحرا کی طرف لاتا ، کہ میرے نزدیک یہی ذندگی کی حقیقت تھی ، وُہ اُتنا ہی اپنے خُود ساختہ، تخیلاتی اور تصوراتی جہان رنگ و بُو میں اُلجھتا چلا جاتا۔ یُوں تو زندگی نے اُسے کئی بار اپنا کھُردرا ، بدرنگ اور بدنُما حقیقی چہرہ دکھایا مگر وُہ ہر بار گُزشتہ را صلواتہ تک تو آتا، آئندہ را احتیاط تک کبھی نہ پُہنچتا۔
پے درپے دھوکہ کھانا اور رو دھو کر ایک نئے دھوکے کے لئے آمادہ ہو جانا اُس کی فطرت ثانیہ بن چُکی تھی-
زندگی کی ہر کُشتی میں چاروں شانے چت ہو جانے کے بعد وُہ پھر اُٹھ کھڑا ہوتا اور پچھلے اکھاڑے کی مٹی جھاڑ کر نئے دنگل کے لئے کمر بستہ ہو جاتا۔ اُس کی ہمت تھی کہ ٹوٹتی ہی نہ تھی اور وُہ ہارمان کر ہی نہ دیتا تھا ۔
اس سارے عرصہ میں ایک مُستقل تعلق جو بہرصُورت قائم رہا وُہ میری اور شکیل کی اٹُوٹ دوستی تھی۔جب بھی وُہ ٹُوٹتا تو میرے ہی کندھے پر سر رکھ کر روتا ، میری سُنتا اور با لاخر پھر اپنی ہی کرتا۔
اُس کی شخصیت باغ کے اُس سب سے گھنے قد آور درخت کی مانند تھی جس پر رنگا رنگ خُوش گُفتار جانور آتے ہیں، گھنے پتوں ٹہنیوں میں پھُدکتے ہیں ، گاتے ہیں، پھل ٹھُونگتے ہیں ، رُومان لڑاتے ہیں اور اپنی مرضی سے اُڑان بھر کر کسی اور درخت ، کسی نئی مُنڈیر پر جا بیٹھتے ہیں۔ درخت ایک پرے کے جانے سے اُداس ہوتا ہے، سوگوار ہوتا ہے لیکن نئے پرندوں کے دُوسرے پرے کے لئے دیدہ و دل فرش راہ کئے رہتا ہے۔
یہ سب اپنی جگہ درُست لیکن شارقہ والا صدمہ اتنا جاں کاہ تھا، مانو تیز بے رحم آندھی کے شدید جھکڑوں نے درخت کو جڑوں سمیت اُکھاڑ کر دُور لا پھینکا ہو۔
سائکوٹرسٹ کے ساتھ لمبی نشستیں بھی اُس کو
نہ سنبھال سکیں ۔ بالآخر ترک سکُونت ہی واحد جائے فرار اور راہ نجات رہ گئی، گو میں اس کے شافی ہونے میں کافی شکُوک رکھتا تھا۔
شکیل کے امریکا جانے سے میں تنہا ہو گیا۔ اُس نے باہر جاکر مُجھ سے رابطہ بالکُل ختم کردیا۔ اُس کے جانے کے بعد مُجھے پتہ چلا کہ وُہ اُول جلُول انسان کس حد تک میری زیست کا جُزو لا یُنفک بن چُکا تھا۔
جب منفی نہ رہا تو مُثبت کا وُہی حشر ہُوا جو سائنسی طور پر ہوتا ہے۔ میری زندگی کا شُعلہ بھی اُسی منفی کا مرہُون منت تھا۔میں بس ایک بے پتوار کشتی کی مانند ڈولتا پھرتا ۔ اکثر اُس کی دوستی کی آوارہ خُوشبُو سُونگھے کی ہوس میں اُن مقامات پر جا نکلتا جہاں پچھلے کئی برسوں میں ہم درجنوں بار جا چُکے تھے اور پہروں گُزار چُکے تھے۔
کل بھی اسی جنُون کا مارا میں لارنس گارڈن کی چھوٹی پہاڑی پر چڑھ کر بڑ کے نیچے اُسی بنچ پر جا بیٹھا جہاں ہم نوجوانی سے جوانی تک بیسیوں بار بیٹھ کر پہروں گُزار چُکے تھے۔
بیتی باتیں یاد کرکے میری آنکھوں کے گوشے بھیگ گئے۔ ہوا کا ایک نرم سا جھونکا پُرانے اخبار کا پھٹا ہُوا آدھا صفحہ اُڑا کر میری طرف لے آیا، جسے میں نے ہاتھ بڑھا کر عادتا پکڑ لیا۔
کسی چکناہٹ بھری چیز سے مس ہو کر اخباری کاغذ چکنا ہو رہا تھا۔ اُس کے ادبی صفحہ کے نچلے کونے پر چھپی مدہم ہوتی اپنی نظم مُجھے نظر آ ہی گئی،
قصُور
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں اُس کو سوچتا ہُوں
اور دھنک بُنتا ہُوں
جو وُہ نہیں ہو تی
میری دھنک ہوتی ہے
اور جب حقیقت کی
کڑی دُھوپ
میری دھنک جلاتی ھے
تو وُہ نکلتی ہے
بد رنگ اور کریہہ
تو قصُور کس کا ہُوا ؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاوید انور

اس تحریر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں