برگد 498

معروف شاعر، ادیب اور نقاد جناب علی اکبر ناطق کا افسانوی مجموعہ “برگد” پر تنقیدی تبصرہ

یہ برگد ایک کتاب ہے ۔

کتاب افسانے کی ہے ۔ افسانے محمد جاوید انور کے ہیں اور محمد جاوید انور شاعر ہیں، افسانہ نگار ہیں اور انسان با اعتبار ہیں ، باخُلق ،وضع دار، باوقار ہیں ، بہت عرصہ نہیں ہوا کہ ہماری اِن سے دعا سلام ہوئی ،افسانے ہم نے پڑھ لیے، شاعری اِن کی پڑھ لی ۔

آج بابت افسانوں کے کچھ بات ہو جائے ۔ اِس کتاب میں 14 افسانے ہیں ، 13 افسانچے ہیں ، اور اُن پر تنقیدی مضامین بھی ہیں ۔ جن لوگوں کے تنقیدی مضامین ہیں، اُن میں سے عرفان جاوید کو چھوڑ کر باقی لوگوں سے خود صاحب ِکتاب کے افسانے فنی اور سماجی نقطہء نظر سے بہت بہتر ہیں۔

ہر افسانہ ایک کہانی کے تمام ارتقائی منزلوں سے ہوتا ہوا بہت دھیمے انداز میں انجام کی خبر لیتا ہے اور مزے کی بات کہ قاری تب تک کہانی کے ساتھ رہتا ہے جب تک خود افسانہ نگار کہانی کو بہاتا ہے ۔ میری اِس بات کا مفہوم یوں ہے کہ کہانی میں روانی اور عبارت کا بہاو نہایت صفائی سے آگے چلتا ہے ۔

افسانہ نگار کو لفظ و معنی کی قیمت کا اندازہ ہے ۔ بے وجہ طوالت بالکل نہیں ہے ۔ میں نے یہ کتاب دو دن میں پڑھی ہے ۔ اور آج اِسے پڑھے ہوئے ایک ماہ ہو چکا ہے مگر ایک ایک افسانے کی کہانی کو بمع جزیات ازبر کیے بیٹھا ہوں ۔ یہ وہ ہُنر ہے کہ اگر کوئی افسانہ نگار اِسے قاری کے لیے استعمال کرنے کی طاقت نہیں رکھتا ،وہ فکشن رائٹر نہیں کہوا سکتا ،چاہے اپنے زعم میں جیسے بھی فلسفے کہتا پھرے ۔ محمد جاوید انور صاحب اپنے اُن زمانوں سے جڑے ہوئے ہیں جو عمومی طور پر اُنھوں نے کالج ، سکول اور دیہات کی ملی جلی زندگی میں بسر کیے ، اُنھیں کی تصویریں اِن کی کہانیوں میں سماجی ، معاشی اور معاشری وادیوں کے دروبست کو طے کرتی ہیں ، وہ اِس معاملے میں کسی حد تک ناسٹلجیا کی زندانی بھی ہیں ۔

محمد جاوید انور صاحب کے ان افسانوں کو پڑھتے ہوئے آپ ایک اور بات بھی محمسوس کریں گے کہ وہ افسانے میں کسی قسم کی بندھی ٹکی کرافٹ اور سانچے کے قائل نہیں ہیں ، نہ وہ ہر افسانے میں فلیش کی اُلٹ پھیر پر یقین رکھتے ہیں ۔ اُن کا افسانہ پڑھتے ہوئے آپ پورے سماج کا مطالعہ کرتے ہیں ناکہ کسی خاص نکتہ کی پہنچ تک جانے کا سفر ۔ جاوید صاحب نے اپنے افسانوں میں مرد عورت کے باہمی اشتراک کو زیادہ تر دکھانے کی کوشش کی ہے ، اِس سے کسی حد تک بعض افسانوں میں ایک زیریں سطح کی یکسانیت در آئی ہے لیکن وہ یکسانیت ہرگز ایسی نہیں جسے ایک نظر میں قاری اپنی گرفت میں لے سکے ۔ مجھے بہر حال افسانے بہت اچھے لگے ، آپ بھی پڑھ کے دیکھیے اور ضرور دیکھیے ، لاہور سے ماورا نے چھاپا ہے اور بہت عمدہ چھاپا ہے ‘۔ خدا کرے اِس کتاب کے صدقے جاوید صاحب ہمارے شہر کے ریلوے اسٹیشن پر برگد لگا دیں

علی اکبر ناطق

اس تحریر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں