545

برصغیر کے ممتاز افسانہ نگار اور معروف نقاد جناب محمد ھاشم خان ( ہندوستان) کا جاوید انور کےافسانہ ” شیر” پر تبصرہ۔

برصغیر کے ممتاز افسانہ نگار اور معروف نقاد جناب محمد ھاشم خان ( ہندوستان) کا میرے افسانہ ” شیر” پر تبصرہ۔
جاوید انور صاحب کی تحریروں میں اب تک میں نے ایک خاص چیز جو محسوس کی ہے وہ ہے ان کی نثر میں Musical Roughness۔اس کا اظہار میں پہلے بھی ان کے افسانے برگد پر کرچکا ہوں اورزیرنظر افسانے میں بھی نثر کی یہی کھردری موسیقیت ، غائرمشاہدات، اور خوردبینی جزئیات نےمجھے مسحور رکھا ۔ ہر چند کہ یہ ایک عام کہانی ہے،ان تمام لوگوں کی کہانی جو بے خانماں برباد ہیں، اور ان تما لوگوں کی داستان جو جھگیوں میں پیدا ہوئے ، جوان ہوئے اور پھر رزق خاک ہوگئے۔ پھر اس کہانی کی انفرادیت کیا ہے؟ انفرادیت کہانی کی جزئیات اور اسے بیان کرنے کے لئے زبان کی کھردری موسیقیت کا سحر۔یہ نہ تو شاعری ہے اور نہ ہی کوئی مرصع نثر یہ ایک کیفیت ہے جس میں دونوں خود بخود آمیز ہوکر ایک نئی شکل میں وجود پاتے ہیں۔افسانہ کچھ طویل ہے اور ایک ایڈیٹنگ کی ضرورت ہے۔ میں یہ مشورہ تو نہیں دوں گا کہ آپ کو ایسے لکھنے چاہئے تھا اور آپ کو ویسے لکھنا چاہئے تھا لیکن یہ ضرور ہے کہ ایک ایڈیٹنگ سے افسانہ کچھ یابس و زوائد سے پاک ہوسکتا ہے۔ ربو،حسو،رحمو اور پپو نے مجھے بہت پریشان کیا ہے ۔۔اگر ممکن ہو تو ان کا کچھ علاج کردیں۔

اس تحریر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں